ّٓٓٓٓٓٓپریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ آفیشل اردو بلاگ


پاکستان سے بات کریں


تحریر: آصف علی زرداری
صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان


جمہوریت کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ اس میں تصادم کے مقابلے میں ڈائیلاگ کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ یہی 
پالیسی ہم پاکستان میں چلا رہے ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے شدت پسندی کی دھمکیوں کا سامنا ہے وہاں امریکہ کے کچھ حضرات نے اس پر ایسے حملے کئے جس سے اس ہفتے شدت پسندی کو بہت شہ ملی، اس لئے حیران ہوئے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے خلاف اس منظم کوشش نے پاک امریکہ باہمی روابط کو کھلا نقصان پہنچایا
حالانکہ ان روابط کو تضاد کی بجائے مشترکہ مفادات کے لئے استعمال کرکے بہتر نتائج نکالے جا سکتے تھےان حالات میں کہتا ہوں کہ پاکستان کے خلاف لفظوں کی جنگ ٹھنڈی کریں اور سنجیدہ گفتگو کا راستہ اپنا لیں۔ سنجیدہ گفتگو کے لئے ضروری ہے کہ چند زمینی سچائیوں کو فوراً نظر رکھا جائے ۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ پاکستان کو کئی فالٹ لائن کا سامنا ہے اسی طرح جنگی جنون بھی رُکا نہیں، یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ ہمارے جغرافیائی محل وقوع کو زبردستی ایسے مستقبل سے جوڑ دیا گیا ہے جہاں بڑی عالمی لڑائیاں نظریات کے جنگی میدانوں میں لڑنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ اس حقیقت سے کون نظریں چرا سکتا ہے کہ مشرق وسطی سے لے کر جنوبی ایشیا تک تبدیلی کا ایک طوفان قفل زدہ معاشروں کو تاراج کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ ان حالات میں اپنی مرضی کے فیصلے نافذ کرنے کے خواہش مندوں اور مقابلے کی ہمت رکھنے والے دل جلے جمہوریت پسندوں کے درمیان معرکہ اور جوڑ پڑ رہا ہے۔ میں اس معاملے میں غلط فہمی کا شکار عالمی طاقتوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ نظریات کی جنگ پہلے ہی شروع ہوچکی ہے اس جنگ کا میدان ہر بیٹھک، موبائل ٹیلی فونوں سے بھرا ہوا ہر گاؤں اور گوٹھ کے علاوہ ہر سکول کا کلاس روم اور ٹیلی ویژن پر جاری ہر ٹاک شوہے۔ کئی قسم کے نقصانات سہنے کے باوجود پاکستان نے جرأت مندی سے اُمید کی شمع جلانے کا فیصلہ مستقل مزاجی کے ساتھ کیا ہے۔ اُمید کی یہ شمع پاکستانی غریب عوام کے لئے مستقبل میں نئے مواقع پیدا کرنے کے عزم سے جل رہی ہے۔ ہم پاکستان کو اندھیرے میں نہیں جانے دیں گے نہ ہی عالم انسانیت میں اور بین الاقوامی برادری میں سے ہمیں نکال باہر کر سکتا ہے۔ ہمارے مقاصد بڑے واضح اور بالکل سادہ ہیں۔ ہمارے پاس نوجوانوں کی عالمی طاقت ہے جسے زندگی گزارنے کے لئے بہت ساریoffersمل رہی ہیں مگر ان کے پاس choicesاور مواقع محدود ہیں۔ ہمیں مل جل کر احساس ذمہ داری اُجاگر کرکے ان جغرافیائی چیلنجز کو جمہوریت اور مواقع کی تقسیم کے لئے سود مند بنانا ہوگا۔ ایسے مواقع جن کی طاقت سے شدت پسندی کو معاشرے سے رخصت کرکے قوتِ برداشت کا کلچر عام کئے جا سکے ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہمارا فرض ہے جہاں روزگار کے ذریعے نظر انداز شدہ اور پسے ہوئے طبقات کو نیاآغاز دے کر طاقت کا سرچشمہ بنایا جا سکے۔

ہاں میں ایسے ہی بات کر رہا ہوں جن کے ذریعے بندوق ترک کرکے معاشرتی نفع میں شرکت کا ماحول پیدا ہو جہاں عورت اور اقلیت کو ترقی کے عمل میں روشن مقام ملے۔ یہ وہ تصور ہے جس کے ذریعے نیا جرأت مند پاکستانی معاشرہ تشکیل پائے گا۔ ایسا معاشرہ جس میں مفاد اور انتقام کا نام تک نہ ہو۔ یہ انسانیت کے لئے عالمی تصور ہے جہاں اندھیرے کے خواہش مندوں کے خلاف امید کی جنگ لڑنے والوں کو یہ عہد کرنا ہے کہ وہ آخری فتح تک اُمید سے دستکش نہیں ہوں گے۔ پاکستان کا معاشرہ اور لیڈر شپ دونوں اس راستے پر گامزن ہیں۔ دُنیا ہماری اس قربانی سے اُمید تو لگاتی ہے مگر ایک زمینی حقیقت سے آنکھیں نہیں چرانی چاہیں جس کا نام مناسب وسائل کی دستیابی ہے۔ اس کا مطلب امداد مانگنا نہیں بلکہ پاکستان جب بھی مدد طلب کرتا ہے اس کا مفہوم ٹریڈ کے لئے مناسب ماحول اور ضابطے کی فراہمی ہے جس کے ذریعے ہم خود انحصاری کی منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ ہم بیرونی امداد سے اس لئے بچنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ضابطہ جاتی گورکھ دھندہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے جب بھی دہشت ، وحشت اور بربریت کے خلاف پارٹنر شپ کا وعدہ کیا تو ہم نے اپنا بھرپور حصہ اس امید پر ادا کیا کہ مشترکہ مقاصد پورے ہوں گے ۔
یادرکھیے جہاں ہم جنگ کے لئے کندھا پیش کرتے ہیں ہم اس کا کرایہ اور معاوضہ طلب نہیں کرتے ہاں مگر ہم حدف پورے کرنے پر زور دیتے ہیں جس کے ذریعے پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط اور پر امن ملک بن سکے۔سب جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آفتوں کی زد میں ہے مگر ہمارے ساتھ گفتگو کی بجائے ہمارا قریب سٹرٹیجک اتحادی ہمیں سننے کی بجائے ہمیں سنانے کی پالیسی پر چل نکلا ہے اس کے لازمی نتیجہ میں پاکستان قوم صدمے سے دوچار ہے۔ کیونکہ یہی وہ قوم ہے جو دہشت گردی کی آندھی کے سامنے سینہ تانے کھڑی ہے۔پاکستانی قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ 9/11کے ساتھ ہی دنیا کی طاقت ور ترین اور سب سے بڑی جمہوریت نے پاکستان میں ایک ڈکٹیٹر کو اقتدار پر آمرانہ قبضہ مستحکم کروانے کے لئے اپنے بنیادی اصولوں پر کیوں سجمھوتہ کیا۔ ۔۔؟ایسے وقتوں میں پاکستان کے تیس ہزار بے گناہ نہتے شہری۔ پانچ ہزار فوجی اور پولیس فورس کے جوان ان شدت پسندوں کے ہاتھوں بر سرعام شہید کر دئیے گئے جن کی حمایت کا الزام امریکہ اب پاکستان کے خلاف لگا رہا ہے پاکستان کے سینے پر 335خود کش بم دھماکے کرنے والے عناصر کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ ہم نے انہیں محفوظ جنت فراہم کی ہے۔ پاکستان نے تقریباً سو ملین ڈالر براہ راست اس جنگ میں جھونک دیئے اور ہزاروں ، لاکھوں ملین ڈالر فارن انوسٹمنٹ کی صورت میں ہم نے اس راہ پر بغیر کسی معاوضے اور احسان کے قربان کر دیئے۔ یہاں یہ امر حیران کن ہے کہ یہ جنگ تو افغانستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں لڑی جارہی ہے لیکن امریکہ نے سینکڑوں ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری اس جنگ کے باڈر کے صرف ایک طرف کی ہے جبکہ ہماری طرف اتنے نقصانات کے باوجود کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ہمارا مقابلہ ایسے نظریے اور سوچ سے جاری ہے جو ظلم و تشدد اور دباؤ میں پروان چڑھتا ہے ان طاقتوں نے ہی ہماری بے شمار قیمتی جانیں خاک و خون میں نہلا دیں ہم نے اپنی اس عظیم خاتون لیڈر کو بھی دیکھا جو میرے بچوں کی ماں ہے کہ اسے ایسے ہی دھماکوں میں ایک بڑی سازش کے نتیجے میں بر سرعام شہید کر دیا گیا اور اب ہم پر الزام ہے کہ ہم یہ صدمے کیوں برداشت کر رہے ہیں۔ ہم جن میں برداشت کی بے حد و حساب طاقت ہے چاہے ہماری کمٹمنٹ محدود کیوں نہ ہو ہمارا موقف ہمیں روزانہ خطرات سے دوچار کرتا ہے لیکن ہم تاریخ بنا رہے ہیں ہمیں وقتی شہرت سے سروکار نہیں ہمیں تاریخ سے سبق بھی حاصل کرنا ہوگا۔ ساوتھ اور سنٹرل ایشیا پیچیدہ خطے ہیں جہاں جھگڑے اور خطرات منڈلاتے ہیں اور خطرناک حد تک غلطیاں دہرائی جاتی ہیں ان خطوں میں عظیم سلطنتیں اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکیں۔دس سال سے وہ ہمارے پڑوس میں ہیں نیٹو کی افواج ابھی تک دُنیا کے لئے سب سے زیادہ منشیات پیدا کرنے والوں کا گلہ گھونٹنے کا مینڈیٹ تک نہ حاصل کرسکیں۔ منشیات کا یہ کاروبار علاقے کے لئے دھماکہ خیز بارود ثابت ہورہا ہے اس کے باوجود پاکستانی فوج اس شدت پسندی کو روکنے کے لئے سینہ سپر ہے جو افغانستان کے علاقوں سے پاکستان میں داخل ہوتی ہے۔ پاکستان کی گلیاں سوالوں سے بھری ہوئی ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا ہمارا خون اس قدر سستا ہے؟ ہم کب تک اس دشمن سے لڑ کر خود کو کمزور کرتے رہیں گے جس کا خاتمہ نیٹو افواج سے بھی نہ ہو سکا۔امریکہ چونکہ افغانستان سے اپنی زمینی افواج کے انخلاء کا ارادہ کر رہا ہے لہذا ہم اس خطے سے امریکہ کے چلے جانے کے بعد درپیش آنے والے حالات کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔بین الاقوامی برادری پہلے بھی ساوتھ اور سنٹرل ایشیا کو ایک پوری نسل کی حد تک بے یارو مدد گار چھوڑنے کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ اس یکطرفہ پالیسی کے باعث ہم اس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں کوئی آئے یا جائے یہ ہم ہیں یا ہماری آنے والی نسلیں جنہیں اس آتشی طوفان کا سامنا کرنا ہے ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ رہنا ہے تو پھر ہم کیوں نہ اپنی مغربی سرحدوں کے بارے میں متفکر ہوں۔۔؟ اور اس میں کیا نا معقولیت ہے کہ ہم دنیا کے یکطرفہ انخلاء کے تناظر میں اپنی مغربی سرحدوں کی حفاظت کے لئے فوری اور طویل المدتی پالیسیوں کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں۔ اگر ہم یہ ذمہ داری اپنے کاندھوں پر نہ لیں تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔امریکہ اور پاکستان اس مقام سے کیسے آگے بڑھیں۔۔۔؟ ہم ایک ایسے دور کے اتحادی ہیں جہاں بم اور براڈ کاسٹ کا کوئی بارڈر باقی نہیں بچا۔ ہماری جدوجہد مشترکہ مقاصد رکھتی ہے۔ دونوں ملک جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم متوازن، جدید قوت برداشت رکھنے والے جمہوری ساؤتھ اور سنٹرل ایشیا کا خواب دیکھتے ہیں۔ امن کا دشمن مشترکہ ہے اور ہماری پارلیمانی روایات، ترقی اور اجتماعیت کی خواہش سے بھرپور اور جمہوری معاشرے کا مقصد بھی ایک ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ٹریڈ اور روزگار کی فراہمی کا نظریہ اور پیداواری معیشت کی ترویج کے ذریعے انتہا پسندی کے سوتے خشک ہوسکتے ہیں۔ اس سوچ کے باوجود ہم نے ROZs کو کبھی نہیں دیکھا جن کے ذریعے معصوم زندگیاں خطرے سے محفوظ رکھنے کی بات ہوئی تھی۔ مقصد اور سوچ ایک ہوں تو اسے تصادمی الفاظ کے حملے سے بچانا ضروری ہوتا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہم ایسے ہی اختلافی راستوں پر چل رہے ہیں۔اس ہفتے ہم پر لگنے والے الزامات کے نتیجے میں مشترکہ دشمن کے خلاف اجتماعی حکمت عملی، مفادات اور کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی حد تک ہم کبھی اپنے طے شدہ راستے سے نہیں بھٹکے اور نہ ہی راستہ کھوٹا کریں گے۔ عملی اور حقیقی طور پر اس راستے کی زمین کے ایک ایک انچ کو فتح کرنا اور شدت پسندی سے محفوظ بنانا ہمارا مقصد ہے اور یہ کام ہم امریکہ کے بغیر بھی جاری رکھیں گے۔ ہم پرعزم لوگ ہیں۔ اس لئے کسی مدد، کسی امداد کی پروا کئے بغیر بھی ہم آگے بڑھیں گے۔ باہمی تعلقات کا احترام اپنی جگہ لیکن اس سلسلے میں کسی کو ناگزیر نہیں سمجھتے کیونکہ نہ کوئی فرد، نہ ملک بلکہ عالمی امن سب سے ناگزیر ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ہم علیحدہ علیحدہ خانوں میں بیٹھ کر اور بٹ کر منصوبہ بندی کریں گے جہاں ایک اتحادی سے مشورہ کرنے کی بجائے اسے اطلاع کی جائے گی، ہم ایسی صورت میں ہم وہ کامیابیاں کھو دیں گے، ایک ایسی جنگ کی کامیابیاں جہاں ہم نے خون اور خزانہ بلا تفریق بہایا ہے۔ جتنا جلدی ہم ایک دوسرے پر لفظوں کے تیر چلانا بند کریں گے اور باہمی مشورے اور رابطے سے اپنے وسائل دہشت گردی کے علم کو سرنگوں کرنے کیلئے مجتمع کریں گے اتنا ہی جلدی ہم استحکام واپس لاسکتے ہیں۔ ایک ایسی عظیم مادر وطن کے لئے جو ہماری سجدہ گاہ بھی ہے اور جس کی بقاء اور تحفظ پر بے شمار انسانوں نے اپنی جانیں نچھاور کردیں۔